"اپنی انا اور نفس کو ایک انسان کے سامنے پامال کرنے کا نام عشق مجازی ہے اور اپنی انا اور نفس کو سب کے سامنے پامال کرنے کا نام عشق حقیقی ہے، اصل میں دونوں ایک ہیں۔ عشق حقیقی ایک درخت ہے اور عشق مجازی اسکی شاخ ہے۔
جب انسان کا عشق لاحاصل رہتا ہے تو وہ دریا کو چھوڑ کر سمندر کا پیاسا بن جاتا ہے، چھوٹے راستے سے ہٹ کر بڑے مدار کا مسافر بن جاتا ہے۔۔۔ تب، اس کی طلب، اس کی ترجیحات بدل جاتیں ہیں۔"
زاویہ سوئم، باب :محبت کی حقیقت سے اقتباس

Views: 207

Replies to This Discussion

great, totaly agreed

Ishq mea Apni Khushi ko Bhoul jata hy insan

Ishq par zor naheeN, hai ye woh aatish 'GHalib'
ki  lagaaye  na  lage  aur  bujhaaye  na  bane

R8

Allaw information .... ;-)

agreed

Thanx for sharing with us sweetooo

Nice

GREAT!!!!!!!!!!!!!

Great information,thanks for sharing.

RSS

SPONSORED LINKS

SPONSORED LINKS

© 2017   Created by Irfan Khan MSCS.   Powered by

Badges  |  Report an Issue  |  Terms of Service